نئی دہلی ،5؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)راجیہ سبھا نے اپنے تین ارکان کرن سنگھ، جناردن درویدی، پرویز ہاشمی کو الوداع دی جن کی مدت اسی ماہ کی 27تاریخ کو مکمل ہو رہی ہے۔ایوان نے ان کی شراکت کی تعریف کی اور انہیں آگے کی زندگی کے لئے نیک خواہشات پیش کیا۔صبح ایوان بالا کے اجلاس شروع ہونے پر چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے ان کی مدت کی تکمیل کا ذکر کیا۔تینوں رکن کانگریس سے ہیں اور ایوان میں دہلی کی نمائندگی کر رہے تھے۔نائیڈو نے کہا کہ ان ارکان نے ایوان میں بحث کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹیوں کی بحث میں بھی قابل ذکر کردار ادا کیا۔انہوں نے پارلیمانی جمہوریت اور ایوان کے وقار کو بڑھانے میں کردار نبھایا۔چیئرمین نے انہیں نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے ان کے صحت مند رہنے کی دعا کی اور امید ظاہر کہ وہ آگے بھی قوم کی خدمت کرتے رہیں گے۔ایوان میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کرن سنگھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ آزاد ہندوستان کے پہلے شخص ہیں جو 18 سال کی عمر میں ریاست کے سربراہ بن گئے تھے۔وہ ایسے شخص ہیں جنہوں نے مہاتما گاندھی کو بھی دیکھا اور پہلی وزیر اعظم سے لے کر اب تک کے تمام وزرائے اعظم کے ساتھ ملنے کا پورا موقع ملا اوربہت وزرائے اعظم کے ساتھ ان کو کام کرنے کا بھی موقع ملا۔انہوں نے کہا کہ کرن سنگھ پانچ بار لوک سبھا کے رکن رہے اور راجیہ سبھا کے رکن رہنے کے علاوہ مرکزی وزیر رہے۔وہ ایک اہم دور میں امریکہ میں ہندوستان کے سفیر بھی رہے۔آزاد نے کرن سنگھ کے مختلف امتیازات وخصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی شراب، سگریٹ اور پان کے قریب نہیں گئے۔وہ عام زندگی گزارنے والے ہیں۔آزاد نے کہا کہ جناردن درویدی طالب علمی زندگی سے ہی سیاست میں آ گئے اور طویل عرصے تک دہلی یونیورسٹی میں استاد رہے۔وہ کانگریس کی تنظیم میں کئی عہدوں پر فائزرہے۔وہ تین بار راجیہ سبھا کے رکن رہے۔پرویز ہاشمی کا ذکر کرتے ہوئے آزاد نے کہا کہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم رہے۔وہ دو بار دہلی اسمبلی کے رکن اور وزیر رہے۔وہ دو بار راجیہ سبھا کے رکن رہے۔انہوں نے امید ظاہر کہ ہاشمی سیاست میں سرگرم رہیں گے۔ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے تینوں ارکان کو نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ متفرق موضوعات کے جاننے والے ہیں۔ایک طرف وہ سنسکرت کے عالم ہیں وہیں کلاسیکی موسیقی کا بھی علم رکھتے ہیں۔